
آیت عشق | Ayat E Ishq | علی حسین عابدی | Ali Hussain Abidi
Reliable shipping
Flexible returns
علی حسین عابدی قلندروں کو ماننے والا شاعر ہے اور قلندروں کو ماننے والا صاحب نظریہ اور فکر ہوتا ہے وہ ضابطہ حیات و کائنات کو ادراک کی جن پر توں میں سمو لیتا ہے وہاں کوشش سے اظہار ذات کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ نظریہ شعر کے ساتھ خود صفحہ قرطاس پر اتر تا بکھرتا سنورتا اور نکھرتا جاتا ہے۔ میں اس کا کون کون سا شعر مثال کے لیے پیش کروں ۔
ایک ساعت کو بھلایا تھا غم عشق ابھی
بند ہونے لگا تخلیق کا ہر در مجھ پر
یا پھر
مجھے یقین ہے ہوگی نہیں شکست کبھی
لگا کے دیکھ لو اک نعرہ الست کبھی
علی حسین عابدی عہد حاضر کا بڑا شاعر ہے ۔ جسے لفظوں کے استعمال سے لے کر خیالات کے برتاوے کا ہنر آتا ہے۔ اس کے باوجود وہ صرف لفظی چابکدستی تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ شعر کہتا ہے اور شعر بھی ایسے جو تیر کی طرح سیدھے دل میں تر از و ہو جاتے ہیں اس کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔
مجھے خبر ہے مری موت کا سبب مرے دوست
بس ایک تیر تمہاری کماں سے نکلے گا
سب بکے گا یہاں بیکسی کے سوا
میں ابھی آرہا ہوں زباں بیچ کر
اس شعر پر تو میری جان فدا:
عابدی کون بتائے گا مرے بعد اُس
ے ڈوبتے وقت مجھے اُس کا خیال آیا تھا
فرحت عباس شاہ
۳ فروری ۰۲۱۰۸، لاہور
Pages 120