غالب شناسی کی تکون | یوسف نون | Ghalib Shansi Ki Takoon | Yousaf Noon
غالب شناسی کی تکون | یوسف نون | Ghalib Shansi Ki Takoon | Yousaf Noon
Couldn't load pickup availability
”غالب شناسی کی تکون“:ایک تعارف
ڈاکٹرعبدالعزیز ملک
غالب کی شاعری تمام ادوار کی شاعری ہے۔اس میں معنوی تہہ داری اس قدر موجود ہے کہ ہر طبقہئ فکر اور ہر زمانہ اس سے معنی کشید کرتا رہا ہے۔غالب نے اس بات کو بذاتِ خود بھی محسوس کیا اور کہا:
گنجینہء معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے
غالب کی شعری کائنات کی و سعت کو ظاہر کرنے کے لیے اسے اگر بحرِ بے کراں سے تشبیہ دی جائے تو غلط نہ ہوگا۔غالب شناس ہردور میں اس سے گوہرِ مقصود تلاش کرتے رہے ہیں جن کے نام شمار کرنا شروع کر دے جائیں تو ان کی طویل فہرست ہے۔”غالب شناسی کی تکون“ یوسف نون کی تازہ کتاب ہے جو فکشن ہاؤس لاہور سے 2020ء میں اشاعت پذیر ہوئی ہے۔اس کتاب میں انھوں نے گوپی چند نارنگ،شمس الرحمان فاروقی اور اسلم انصاری کی غالب شناسی کو تنقیدی زاویے سے دیکھا ہے۔ڈاکٹر اسلم انصاری کی بنیادی حیثیت تو اقبال شناس کی ہے لیکن انھوں نے ”غالب کا جہانِ معنی“ تحریر کر کے غالب کی شاعری کی مختلف جہات کو متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ ”غالب کا جہانِ معنی“ ان کے مضامین کا مجموعہ ہے جو انھوں نے مختلف اوقات میں ادبی رسائل کے لیے تحریر کیے۔ یوسف نون نے ان کے ان مضامین کا تجزیاتی مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ”اسلم انصاری غالب اور فکرِ غالب میں محرک اور جدلیاتی رشتہ تلاش نہیں کر پائے،ان کے ہاں جامد فکر پیش کی گئی ہے۔“ان کا خیال ہے کہ ”غالب کا جہانِ معنی“ مدرسانہ تنقید کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔اس مجموعے میں بعض مباحث کی بے جا تکرار،بعض پہلوؤں کا بار بار آنا کسی عیب سے کم نہیں۔ ان کا یہ مجموعہ کسی خاص تھیسس یا واضح مؤقف سے عاری ہے۔“
”غالب شناسی کی تکون“ کا دوسرا کونا شمس الرحمان فاروقی ہے جنھوں نے ادبی سفر کا آغاز شاعری سے کیا اور پھر افسانہ نگاری اور ناول نگاری کی جانب ملتفت ہوئے۔تنقید کی جانب دھیان دیا تو خاص انفرادیت قایم کی۔غالب شناسی کے حوالے سے ان کی کتاب”تفہیمِ غالب“ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔اس کے علاوہ ”غالب پر چار تحریریں“ اور”انتخابِ اردو کلیاتِ غالب“ ان کی غالب سے دلچسپی اور محبت کو ظاہر کرتا ہے۔یوسف نون نے شمس الرحمان فاروقی کی غالب شناسی کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے اور اس سے استخراج کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”غالب پر فاروقی کے اکثر مطالعے سطحی ہیں،وہ تہہ تک نہیں پہنچ پاتے۔وہ اکثر ادب یا موجود متن کے ظاہری،لغوی اور تکنیکی تفاعل تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں،ان کے ہاں آوازِ عصر کی بجائے گہری رجعت پسندی اوررومانیت کے بادل اور ماضی کے مہیب دھندلکے پائے جاتے ہیں،جہاں وہ گم ہوتے نظر آتے ہیں،مگر ان کے کام کی اپنی الگ پہچان اور اہمیت بھی ضرور ہے“
”غالب شناسی کی تکون“کا تیسرا کوناگوپی چند نارنگ ہے جن کا نام عصرِ حاضر کی تنقید و تحقیق میں کسی تعارف ک امحتاج نہیں،ان کے کام کی متعدد جہتیں ہیں، وہ ماہرِ لسانیات کے ساتھ ساتھ اسلوبیات کے میدان میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔اقبال شناسی، میر شناسی،انیس و دبیر اور جدید تھیوریز پر درک رکھنے کے ساتھ ساتھ غالب شناس بھی ہیں۔”غالب:معنی آفرینی،جدلیاتی وضع،شونیتا اور شعریات“ ان کی غالب کے حوالے سے منفرد کتاب ہے۔ ان کی تنقید میں مقامیت کا عنصر نمایاں ہے۔انھوں نے غالب کی فکر میں دانشِ ہند، ویدانتی فکر،بودھی فلسفہ،شونیتا اورجدلیاتی وضع کے آثار تلاش کیے ہیں۔ قدیم وضع کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ انھیں جدید ذہن کا حامل بھی قرار دیا ہے۔ یوسف نون ڈاکٹر اسلم انصاری اور شمس الرحمان فاروقی کے برعکس گوپی چند نارنگ سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، ان کے خیال میں:
”نارنگ کی فکری جہات مسلسل ارتقاء پذیر ہیں۔نارنگ کی یہ تصنیف نہ تو کسی رد یا جواب میں ہے اور نہ ہی کسی غالب شناس کی توسیع یا اضافے میں لکھی گئی ہے۔یہ تنقیدِ غالب کا منفرد اور اگلا قدم ہے۔یہ کتاب غالب سے متعلق نئے مکالمے اور نئے بیانیے کا آغاز اور غالب کا نیا ڈسکورس ہے“
یوسف نون نارنگ کی غالب شناسی کو سراہتے ہوئے انھیں غالب کے حوالے سے فلسفی نقاد اور غالب فہمی میں نئے ڈسکورس کا بنیاد گزار قرار دیتے ہیں۔”غالب شناسی کی تکون“ یوسف نون کی عمدہ کاوش ہے جو تبصرہ سے آگے بڑھ کر تجزیہ کرنے کی صلاحیت کی غماز ہے۔ انھوں نے جس انداز سے مذکورہ ناقدین کے مابین تضاداورہم آہنگی کے رشتے کو تلاشنے کی کوشش کی ہے وہ قابلِ دادہے جو عصرِ حاضر کے ناقدین میں خال خال دکھائی دیتا ہے۔ غالب شناسی کے حلقوں میں مذکورہ کتاب قابلِ قدر اضافہ ہے جس پر وہ تحسین کے مستحق ہیں۔
نام کتاب - غالب شناسی کی تکون
از - یوسف نون
صفحات | 232
Share
