Skip to product information
1 of 1

سید اسد علی | اندھیروں کی کہانی

سید اسد علی | اندھیروں کی کہانی

Regular price Rs.150.00
Regular price Rs.200.00 Sale price Rs.150.00
Sale Sold out

اندھیروں کی کہانی

میں اس کہانی کو کہاں سے شروع کروں کہ کوئی سرا میرے ہاتھ نہیں آتا۔ کبھی سوچتا ہوں کہ شاید کوئی آغاز ہے بھی اس کا کہ نہیں؟یہ اندھیرے کی طرح ہے۔ ذرا آنکھ اٹھا کر افق سے ابھرتے ہوئے سورج کو دیکھو۔ روشنی کے پرامید پیامبر کس دھوم سے اندھیرے کو کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ اپنے مرکز، اپنے سورج سے نکل کر۔ مگر ایک لمحے کو سوچو کہ اس اندھیرے کا مرکز کہاں ہے؟

شاید اسی سورج میں؟

مگر وہ تو روشنی ہے؟؟؟

یہ کہانی اندھیروں کی کہانی ہے، ان اندھیروں کی جن کی پہچان صرف روشنیوں کا عدم وجود ہے۔

تو پھر میں اسے کہاں سے شروع کروں؟

ایک کتا تھا جو بچوں کے پھینکے پتھروں سے بنے زخم چاٹتا تھا اور سمجھ میں آنے والی آواز میں ہولے ہولے روتا تھا۔

ایک مزدور تھا جو پسینہ بہاتا تھا اور مر جاتا تھا۔ پھر کسی اندھیری کوٹھڑی میں پیدا ہوتا اور مر جاتا، صدیوں سے اس کا یہی چلن تھا۔

یا پھر ایک بیٹی ہے کسی کی جسے پاگل کر دینے والی بھوک نے بازار میں لا کھڑا کیا ہے(اور بھوک صرف روٹی کی تو نہیں ہوتی، خوابوں کی بھی ہوتی ہے)۔ اب اس کی ایک ایک ادا کے خریدار ہیں مگر کوئی  بھی ایسا نہیں جو اسے بیٹی کہے۔

ایک کتا، ایک مزدور، ایک طوائف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کہانی کے لئے کوئی اچھا آغاز نہیں۔

میں اس کہانی کو کہاں سے شروع کروں؟

چلو یوں کرتے ہیں جیسے زندگی کی ہے۔ کوئی آغاز، کوئی انجام، کوئی راہگذر، کوئی ہمسفر کچھ نہیں۔ بس درد ہے کوئی جو بے دوا ہوا جاتا ہے۔

تو ایک کتا، ایک مزدور اور ایک طوائف سبھی رہتے تھے اور روتے تھے اس شہر کے اندر جس میں، میں رہتا تھا اور اس رات میں سڑک پر سویا۔ دریا کنارے میلوں تلک پھیلا وہ فٹ پاتھ جس کے قریب پتھر کی بنچ تھی، پہلی ہی نظر میں مجھے اپنا لگا۔ جب میں بنچ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تو لگا جیسے مجھے گھر مل گیا ہو۔ ایسا ہوتا ہے۔ جب لامحدود  فطرت کے سامنے انسان خود کو بے حقیقت لگنے لگے تو وہ کسی آنچل، کسی گھر، کسی مقصد میں منہ چھپا کر بیٹھ رہتا ہے۔ ریت میں سر دبائے شتر مرغ کی طرح وہ خود کو بہت محفوظ سمجھتا ہے۔ میں بہت دیر شاید یونہی پڑا رہتا کہ ایک ہلکی سی آہٹ نے مجھے متوجہ کیا۔ وہ ایک بد رنگ، مرنجان اور میلا سا کتا تھا، جو بڑی بے یقینی اور غصیلی نگاہوں سے مجھے دیکھتا تھا۔ کچھ یوں جیسے کوئی رات گئے اپنے بستر پر کسی اجنبی کو دیکھ لے۔ مجھ سے پہلے یہ بنچ شاید اس غریب کا بسیرا تھی۔

Customer Reviews

Be the first to write a review
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
0%
(0)
View full details