اسلام اور پاکستان | ڈاکٹر اسرار احمد
اسلام اور پاکستان | ڈاکٹر اسرار احمد
Couldn't load pickup availability
ڈاکٹر اسرار احمدؒ، جو ایک معروف اسلامی اسکالر اور تنظیم اسلامی کے بانی تھے، نے کبھی بھی عمران خان کو یہودی یا یہودی ایجنٹ نہیں کہا۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی تقاریر اور تحریروں میں اس طرح کے بیانات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ عمران خان کے بارے میں ان کے خیالات اور تنقیدات دیگر سیاسی اور معاشرتی مسائل پر مرکوز تھے، لیکن انہوں نے کبھی بھی اس طرح کی الزام تراشی نہیں کی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے خلاف مختلف حلقوں سے مختلف قسم کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، لیکن ڈاکٹر اسرار احمدؒ یا انکے بیٹوں کی طرف سے ایسے بیانات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بیٹے آصف حمید نے واضح کیا ہے کہ ان کے والد نے کبھی عمران خان کو "یہودی ایجنٹ" نہیں کہا¹۔ آصف حمید نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ اور عمران خان کی ملاقاتوں میں موجود رہے²۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر اسرار احمد کی جو وڈیوز ان کے علم میں ہیں، ان میں بھی یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے¹۔
آصف حمید نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی عمران خان کے علاوہ دیگر سیاسی رہنماؤں جیسے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں، اور وہ ان ملاقاتوں میں بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے³۔
لہٰذا، ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بیٹے کے بیان کے مطابق، یہ دعویٰ کہ انہوں نے عمران خان کو "یہودی ایجنٹ" کہا، درست نہیں ہے۔
2022 میں تنظیمِ اسلامی کا وفد عالم دین شجاع الدین شیخ کی سربراہی میں بنی گالہ میں بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے لئے گیا⁴۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بیٹے آصف حمید صاحب بھی موجود تھے⁵۔ اگر وہ عمران خان کو یہودی یا یہودی ایجنٹ سمجھتے ہوتے تو ملاقات کے لئے نا جاتے⁶۔
