Skip to product information
1 of 1

کالم نگاری تک | جام سجاد حسین

کالم نگاری تک | جام سجاد حسین

Regular price Rs.200.00
Regular price Rs.400.00 Sale price Rs.200.00
Sale Sold out
Quantity

جام  سجاد حسین 2 مئی 1905 کو ضلع مظفر گڑھ کے نواسی علاقہ یونین کونسل گانگا نے ایک کو میندار گھرانے میں پیدا ہوئےکی۔ 2008 میں وہ نوائے وقت گروپ کے انگریزی اخبار Daily The Nation سے بحیثیت کچھ اور کرائم روپے اثر وابستہ ہوئے۔ قبل ازیں یونیورسٹی لائف میں شاعری پر انہوں نے اپنی پہلی تصنیف اک شام سہائی کیمپس کی تخلیق کی اور ملتان کے ادبی حلقوں میں اپنی الگ پہچان بنائی۔ ای دوران وہ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ماتان ( ریڈیو پاکستان ) سے منسلک ہو گئے اور بطور کمپیئر تحریک پاکستان میں نو جوانوں کے کردار پر کئی پرو گرام کیے۔ یو نیورسٹی لائف میں انہوں نے 2 ریڈیو ڈراے پروڈیوس کیسے اور The Communicator میگزین کی ادارت کے فرائض سر انجام دیے۔ اس دوران انہوں نے The Campus کے نام سے ماہنامہ اخبار کی اشاعت میں معاونت کی اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں کو اجاگر کیا ۔ The Nation جوائن کرنے کے بعد انہوں نے انوسٹی گیٹو ر پورٹنگ میں دلچسپی ظاہر کی اور ایڈیٹر The Nation سلیم بخاری اور Editor Reporting اشرف ممتاز صاحب کی رہنمائی میں اس شعبہ میں اپنی پہچان بنائی۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہیں کم عمری میں ہی تین ایڈیٹرز بشمول عارف نظامی محترمہ ڈاکٹر شیریں مزاری اور سلیم بخاری کے زیر سایہ کام کرنے کا موقع ملا ۔ ساتھ ہی مختلف اخبارات میں قطرہ قطرہ " اور " لمحہ بہ لمحہ کے Caption سے کالم نگاری شروع کی اور صحافت ، ادب ، معاشرتی مسائل اور سیاست پر کالم لکھے۔ ساتھ ہی ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹیڈیز کو بحیثیت وزٹنگ فیکلٹی ممبر جوائن کیا اور 2 سال تک پنجاب یونیورسٹی میں تدریسی فرائض سر انجام دیتے رہے ۔ 10 اکتوبر 2012 کو وہ مقابلہ کا امتحان پاس کرنے کے بعد پنجاب ایمر جنسی سروس (ریسکو (1122) سے بحیثیت پبلک ریلیشنز آفیسر وابستہ ہو گئے ۔ پیشہ ورانہ فرائض کی سرانجام دہی میں اُنہوں نے ملک کی معروف ایڈورٹائزنگ Awareness کے ساتھ مل کرکئی Message Communication ایجنسی "News Reporting in پر کام کیا۔ ان کی تیسری تصنیف Campaigns تحمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اُن Pakistan (Theory & Practice(" کے کئی ریسرچ آرٹیکلز مختلف بین الاقوامی ریسرچ جرنلز میں چھپ چکے ہیں۔

Pages 192

View full details