{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-ساختیات-پس-ساختیات-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات ساختیات، پس ساختیات   Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eافلاطون اور ارسطو سے موجودہ عہد تک ادب کی زبان، ادبی اصناف یا شعری بیٹوں، محرکات اور مجموعاً ان کے تاثر کی صلاحیتوں کو موضوع بحث بنانے کی روایت کا جو ایک سرگرم سلسلہ جاری ہے، اُس کی رو اور رفتار کبھی یکساں نہیں رہی۔ لسانیات، تاریخ ، فلسفہ، نفسیات اور سماجیات جیسے مختلف علوم اور دوسری زبانوں کے شعری قواعد یا یہ کہیے کہ شعریات نے ہمیشہ تنقید کے قائم کردہ کلیوں کو تہس نہس کیا، نئی ترجیحات کی نشو و نمو کی نئی تکنیکوں، ادبی اور لسانی تجربوں حتی کہ نئی اصناف اور ہیٹوں کی اختراع کے لیے ذہنی اور تخلیقی سطح پر آمادہ بھی کیا۔ ادبی تاریخ اور ادبی روایت کی ثروت مندی ، تصورات کی نئی تنظیم اور ان کے مسلسل محاسبے ، ان کی قطع و برید اور ترمیم و اضافے کے متوازی عمل میں مضمر ہے۔ ایک تصور دوسرے تصور کو بے دخل کرتا ہے تو اس کے ایک معنی یہ بھی ہوئے کہ اس نے یہ وجوہ اپنے معنی کو دیے ہیں، زبان وادب کے تقاضوں سے تطابق کی راہ میں خلل واقع ہو چکا ہے۔ نئے علوم اور زندگی کے نئے تجربات نے جس نئی حسیت کی تشکیل کی ہے اس کی ترغیبات کا خاکہ کچھ اور ہی طرح کی رنگ آمیزی کا تقاضہ کر رہا ہے۔ اس طرح فکر و محسوسات کے متداول سانچے ٹوٹتے رہتے ہیں اور نئے سانچے خلق ہوتے رہتے ہیں۔ جو ہمیشہ روایتی شعریات کے لیے ایک چیلنج کا حکم رکھتے اور بالآخر اس کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eساختیات اور پس ساختیات کے ورود سے پہلے بھی رد و ضخ اور تنکیر و توسیع کی صورتیں\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eپیدا ہوتی رہی ہیں ۔ مارکس اور فرونڈ کے تصورات و تحقیقات ہی کی طرح ساختیات کو بھی ایک نئے خیرہ کن اور انقلابی نظریے سے تعبیر کیا گیا ہے اور پس ساختیات نے اس سے بہت کچھ خوشہ چینی بھی کی اور بہت کچھ رد بھی کیا۔ انکار کے معنی کبھی مکمل طور پر انکار کے نہیں ہوتے اور انکار کی مہلت ہمیشہ ایک محدود عرصہ زماں پر محیط ہوتی ہے۔ لیکن اس کا اثر کئی صدیوں اور نسلوں کو محیط ہوتا ہے۔ کسی چیز سے انکار اس چیز کی آگہی کے بعد کا مرحلہ ہے ۔ آگہی ، قبولیت کے ہم معنی نہیں لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا کہ مکمل طور پر انکار کے دعوے کے باوجود آگہی کے بعض اجزا اس کے عمل میں شامل نہ ہوں بلکہ بعد کی نسلیں ہمیشہ انکار کے عمل میں ان اجزا کو تلاش کرتیں، چھان پھٹک کرتیں اور تطابق، انحراف، توسیع اور استرداد کے عوامل کی گند یا اصلیت تک پہنچنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eساختیات کو پس ساختیات نے گزشتہ صدی کے ساتویں دہے میں بے دخل کیا۔ لیکن دریدا کو بے دخل کرنے کی ترغیب بھی ساختیات ہی سے ملی بلکہ یہ کہا جائے کہ رو تشکیل کا پیج ساختیات ہی کی زمین سے پھوٹا ہے۔ ساسیر نے ساختیاتی تصور نہ قائم کیا ہوتا تو دریدا رڈ کے کرتا۔ ۔ ۔ اس لیے ساختیات کی اہمیت اور معنویت کو کم کیا جا سکتا ہے، لیکن زبان اور ادراکی حقیقت کا جو تصور اس نے دیا ہے اس کی وقعت کو نہیں جھٹلایا جاسکتا۔ دریدا کے رو تشکیل کے تصور کے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \"Structure, Sign and Play in the Discourse of the \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eسلسلے میں دریدا کے مقالے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e (1966) \"Human Science \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eکا ذکر ضروری ہے جو اس نے جانسن ہاپکنس یونیورسٹی کے ایک بین الاقوامی مذاکرے میں پیش کیا تھا۔ اس مقالے میں پہلی بار ساسیئٹر کے زبان کے ساخت کے تصور کو سوال زد کیا گیا تھا۔ دریدا نے لیوی اسٹراس کے لسانیاتی منظم ساخت کے دعوے اور مرکز کے اس تصور کو بھی سوال زد کیا تھا جو اس کے نزدیک ساخت کی تنظیم کرتا اور اسے ضابطہ بند کرتا ہے۔ سائر اس مرکز کو داخلی رشتوں کے افتراقی غیر ختم کھیل کو قابو میں رکھنے کے تفاعل پر کار بند بتاتا ہے، دریدا ۔ کہ مرکز سے انکار کے معنی بنیاد، قطعی اور جوہر سے انکار کے ہیں۔ دریدا کے علاوہ رولاں بارتھ ( بعد کے دور میں ) فو کو اور لاکاں بھی اس تمام علم اور صداقت کی معقولیت کو بے مرکز بتاتے ہیں جن کا انحصار خود تصدیق کر دہ بنیادوں پر ہے اور جو عمل ترسیل کے امکان کے تصور پر قائم ہیں۔ فلسفے میں بنیاد مخالف تصور معنی علم ، صداقت، قدر،،۔۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Tarikh Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67609140134197,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0555\/7823\/1093\/files\/6_900a7518-a848-4b31-b897-45de60aa6a8e.jpg?v=1790865663","url":"https:\/\/tarikhpublications.com\/products\/%d8%aa%d9%86%d9%82%db%8c%d8%af%da%a9%db%8c-%d8%ac%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%a7%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%be%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%aa-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","provider":"Tarikh Publications ","version":"1.0","type":"link"}