تنقیدکی جمالیات |جدیدیت، مابعدجدیت | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
تنقیدکی جمالیات |جدیدیت، مابعدجدیت | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
Couldn't load pickup availability
میں نے ن۔م۔ راشد کی نظم اندھے کباڑی کے تجزیے میں اس مسئلے پر بالخصوص تاکید کے ساتھ توجہ دلائی کہ مابعد جدیدیت کی تھیوری کے تحت کوئی بھی مطالعہ اس قدر معصوم اور بے میل نہیں ہو سکتا کہ لفظ و معنی سے متعلق ان تصورات کا اس پر کوئی عکس ہی نہ پڑے جنہیں جدیدیت نے اپنا ایک خاص عنوان بنایا تھا ۔ کسی بھی تخلیقی فن پارے میں معنی کا وجود نامیاتی نوعیت رکھتا ہے، جو آپ اپنے کو جہاں رد کرتا ہے وہاں grow بھی کرتا ہے۔ جدیدیت نے معنی کو کثرت کے ساتھ وابستہ کیا تھا لیکن کثرت کے معنی حتمی یا فیصلہ کن کے نہیں تھے۔ ابہام نتیجہ تھا اس معنیاتی عدم تعین کا ۔ دوسری بات یہ کہ متن میں بے مرکزیت کی مثالوں کی ابتدا جدیدیت ہی سے ہوتی ہے۔ مونتاژ ، کولاژ یا اسمبلاژ سے متعلق مباحث کو کم از کم ادب میں جدیدیت ہی یا سے میں ہی نے ہوادی تھی ۔ اس تصور کو بھی مابعد جدیدیت کے تقاضے کا نام نہیں دینا چاہیے کہ کسی بھی تخلیق تصورکو کے تقاضے کانام دینا کسی بھی کے جزبہ جز تجزیے کا طریق کوئی نیا ہے یا جدیدیت کے کفر کے ٹوٹنے کے بعد اس کی بنیاد پڑی ہے۔ جزئیاتی اور تدریجی تاثرات کے بعد کی منزل ہی مجموعی تاثر کی ہے۔ مجموعی تاثر کے معنی قطعی اُس تدریجی تاثراتی سلسلے کے رد کے نہیں ہیں جو جزبہ جز داخلی ریزه کاری fragmentation
کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مابعد جدیدیت ، جدیدیت کے ایجنڈے کا تکملہ ہے یا جدیدیت اور مابعد جدیدیت میں ایسا کوئی گہرا باطنی یا خفیہ رشتہ ہے جو جدیدیت کو تا ہنوز تازہ دم رکھے ہوئے ہے۔ بیسویں صدی کی ذہنی اور تہذیبی زندگی کو سمجھنے کے لیے جدیدیت کی اسی طور پر خاص اہمیت ہے جس طرح بیسویں صدی کے ربع آخر سے تا حال کی چینی، سماجی اور تہذیبی صورت حال کو مابعد جدید کے علاوہ کوئی اور نام دینا اب تقریباً ناممکن ہے۔ جدیدیت نے ادب، مصوری، موسیقی اور آرچی لیکچر جیسے فنون کے اکثر معمول میں آنے والے اور عادات کے حامل بنیادی عناصر کو نہ صرف چیلنج کیا تھا بلکہ مستر د بھی کیا تھا۔ سب سے زیادہ جس رجحان پر کاری ضرب پڑی تھی وہ تھا روایتی حقیقت پسندی کا تصور ، بہت جلد جس کی جگہ تجربہ پسندی نے لے لی تھی۔
ما بعد جدیدیت کی ایک خصوصیت اس کے انتخابی طریق کار میں مضمر ہے۔ خود رو تحریر aleatory writing کا تصور بھی اسی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ تخلیق کار کے منشا اور قصد یا تخلیقی درمانی اس پارے کی صورت میں ماحصل یعنی result کے درمیان ہمیشہ ایک تناقض پایا جاتا ہے۔ تخلیقی نتشار یا عدم مرکزیت میں تناقض کی صورتیں فطری طور پر واقع ہوتی ہیں ۔ جدیدیت میں وحدت مرکزیت کی جستجو گہرے ناسٹلجیا کی مظہر ہے۔ اسی ناسٹلجیا میں عقیدے کی بازیافت کی تڑپ بھی شامل ہے۔ ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ یا عمیق حنفی کی نظم 'سند باد اور مصلصلة الجرس اس ناسٹلجیا کی مثالیں ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جدیدیت کے نزدیک انتشار یا ریزہ کاری تأسف اور آزردگی کا سبب ہے تو مابعد جدیدیت کے حق میں جشن ہی جشن ہے۔ ایک کے لیے المیہ ہے تو دوسرے کے لیے طربیہ۔
جدیدیت میں جستجو کا ایک زاویہ ارتکاز ذات اور وحدت کے ساتھ مخصوص ضرور ہے لیکن وحدت کے معنی بھر کیلی آرائش و زیبائش کے نہیں ہیں ۔ ایک صوفیانہ بے پروائی اور ایک بے نیاز انہ قسم کی خود کوشی ہیئتی خودروی کے عمل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اختر الایمان و عمیق حنفی، عادل منصوری اور قاضی سلیم وغیرہ کے تجربے کے انتشار اور نری آہنگ میں اس جذباتی اور نظمی نفاست کی تلاش بے سود ہوگی جو فیض احمد فیض یا سرداری جعفری کی نظموں کا خاصہ ہے۔ شاعری میں مشینی درشتی بیسویں صدی کی عمومی سقا خانہ تہذیبی درشتی کی تمثیل تھی۔ مصوری کے علاوہ آرچی ٹیچر کے اسالیب میں بھی اسی قسم مشینی درشتی ایک عمومی میلان کے طور پر در آئی تھی۔ ایڈولف لوف کا یہ اعلان کم دلچسپ نہ تھا کہ decoration is crime آرائش جرم ہے۔ مائس روہ کا یہ اصرار کہ
