Skip to product information
انسان دوست منشور کی تخلیق | ایڈون ولسن

انسان دوست منشور کی تخلیق | ایڈون ولسن

Sale price  Rs.200.00 PKR Regular price  Rs.300.00 PKR

Reliable shipping

Flexible returns

تعارف

انسان دوست منشور کی تخلیق ایڈون ولسن کی کہانی ہے جس میں وہ بیان کرتا ہے کہ اس میں چونتیس نکات کی تصدیق کیوں کی گئی ، اس کی اشاعت کیونکر ممکن ہوئی اور پھر یہ کہ اس کی تاریخی اہمیت کیا ہے۔ ولسن اس کام کا آغاز کرنے والوں میں سے ایک کی حیثیت سے لکھتا ہے۔۔۔ یعنی ایک ایسے انسان کی حیثیت سے جس نے اپنی تمام زندگی ( اس ) منشور کے اصولوں پر قائم رہ کر گزارنے اور اُن کے مطابق کام کرنے کا انتخاب کیا تھا۔

ڈاکٹر ولسن نے 1933 میں منشور سے متعلقہ واقعات کو اُن کے وقوع پذیر ہونے کے تمیں سے چالیس سال بعد لکھا اور اس کی اشاعت کے لیے ناشر ملنے سے قبل اُس کی وفات ہو گئی ۔ کئی دہائیوں پر مشتمل وقت کے اس فرق کی وضاحت جزوی طور پر ولسن کے پیشہ ور انسان دوست کی حیثیت سے گزرنے والی غیر معمولی زندگی سے کی جاسکتی ہے یعنی اپنی زندگی کے بیشتر حصے میں وہ اس قدر مصروف رہا کہ اُس کے پاس اپنی یاداشتیں لکھنے کا وقت بھی نہ تھا۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ سابقہ دہائیاں ، ولسن کی 1920 اور 1930 کے اُن اہم معاشرتی معاشی اور سیاسی حالات کی یاداشت کی عکاسی کرتی ہیں جو انسان دوستی کی ترویج اور " انسان دوست منشور کی جلد از جلد اشاعت میں مدد گار ثابت ہوئیں۔ قاری کو ان حالات کے بارے میں چند عارضی حوالے ملیں گے ۔ السن اپنے اُن دوستوں کو عزت دینے میں زیادہ دلچسپی رکھتا محسوس ہوتا ہے جنہوں نے انسان دوستی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ اس صدی میں انسان دوستی کے جواز کو تسلیم کرنا اور اس کے ذریعے اُن لوگوں کی تردید کرنا جو اس کو رد کرتے تھے یا کریں گے ، اُس کا ضمنی ایجنڈا معلوم ہوتا ہے۔

You may also like